شب قدر

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - لیلۃ القدر، ایک نہایت متبرک رات، اس شب کے تعین میں اختلاف ہے، مگر اکثر کا اس پر اتفاق ہے کہ وہ رمضان المبارک کی ستائیسیویں شب ہے، اس شب کی عبادت ہزار مہینے کی عبادت سے زیادہ بابرکت خیال کی جاتی ہے۔ "بارہ وفات، شبِ قدر، شبِ معراج اور عشرہ محرم میں شب بیداریاں اور نوافل۔"      ( ١٩٨٧ء، کھوئے ہوؤں کی جستجو، ٢٥ ) ٢ - [ تصوف ]  بقائے سالک کو کہتے ہیں عین استہلاک میں وجود حق کے ساتھ۔ (مصباح التصرف)۔

اشتقاق

فارسی اسم 'شب' بطور مضاف کے ساتھ کسرۂ اضافت لگا کر عربی اسم 'قدر' بطور مضاف الیہ ملنے سے مرکب اضافی بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٦٤٩ء "خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - لیلۃ القدر، ایک نہایت متبرک رات، اس شب کے تعین میں اختلاف ہے، مگر اکثر کا اس پر اتفاق ہے کہ وہ رمضان المبارک کی ستائیسیویں شب ہے، اس شب کی عبادت ہزار مہینے کی عبادت سے زیادہ بابرکت خیال کی جاتی ہے۔ "بارہ وفات، شبِ قدر، شبِ معراج اور عشرہ محرم میں شب بیداریاں اور نوافل۔"      ( ١٩٨٧ء، کھوئے ہوؤں کی جستجو، ٢٥ )

جنس: مؤنث